پاکستان کے شہرت یافتہ معالج، سابق گورنر سندھ، سماجی کارکن اور سیکڑوں کتابوں کے مصنف حکیم محمد سعید کی آج 22 ویں برسی ہے۔

انسانیت کا درد رکھنے والی شخصیت کو امن دشمنوں نے 22 سال پہلے آج ہی کے دن شہید کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: معروف قانون دان اور سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر کی دوسری برسی آج

حکیم محمد سعید ایک عہد ساز شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی پاکستان کے لیے وقف کردی۔ تعلیم کے فروغ، بچوں کی ذہن سازی اور طب کا فروغ ان کی تمام تر جستجو کا محور تھا۔

معروف معالج نے انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور آخر دم تک اپنے مقصد سے پیچھے نہ ہٹے۔

دکھی انسانیت کے مسیحا حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920 کو نئی دہلی میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد اپنا سب کچھ چھوڑ کر 1948 میں کراچی آئے۔

حکیم سعید نے بچوں کے لیے ہمدرد نونہال رسالہ شروع کیا جو مقبولیت کے باعث آج تک جاری ہے۔

حکیم سعید مذہب اور طِب و حکمت پر 200 سے زائد کتب  کے مصنف بھی ہیں۔ اُن کے قائم کردہ ادارے ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی سے لوگ آج بھی مستفید ہورہے ہیں۔

وہ 1993 سے 1996 تک سندھ کے گورنر بھی رہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کو ستارہ امتیاز اور نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرک آرٹ کے ذریعے گمشدہ بچوں کو اپنے خاندان سے ملانے کی مہم

حکیم سعید 17 اکتوبر 1998 کی صبح آرام باغ میں اپنے دواخانہ پہنچے ہی تھے کہ انسانیت دشمنوں نے فائرنگ کرکے اُنہیں شہید کر دیا ۔

معروف معالج اور سماجی کارکن حکیم محمد سعید کو ہمدرد یونیورسٹی میں ہی سپرد خاک کیا گیا ہے ۔

The post حکیم سعید کی شہادت کو 22 برس بیت گئے appeared first on ہم نیوز.



Source link